رباعی شمارهٔ 604

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: هند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
تا تو بخودی ترا به خود ره ندهد
1

تا تو بخودی ترا به خود ره ندهد

چون مست شدی ز دیده بیرون نجهند

2

چون پاک آئی ز هر دو عالم به یقین

آنگه بنشان نفرت انگشت نهند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…