رباعی شمارهٔ 1830

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
چشم تو بهر غمزه بسوزد مستی
1

چشم تو بهر غمزه بسوزد مستی

گر دلبندی هزار خون کردستی

2

از پای درآمد دل و دل پای نداشت

از دست کسی که او ندارد رستی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…