رباعی شمارهٔ 1822

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
تو سیر شدی من نشدم زین مستی
1

تو سیر شدی من نشدم زین مستی

من نیست شدم تو آنچه هستی هستی

2

تا آب ز نا و آسیا می‌ریزد

می‌گردد سنگ و می‌زخد در پستی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…