غزل شمارهٔ 406

Toggle stanza 1
رفتم که بشکنم به ملامت سبوی خویش
1

رفتم که بشکنم به ملامت سبوی خویش

در راه دل سبیل کنم آبروی خویش

2

بر عافیت چه ناز کنم گر برآورم

خود را به عادت غم و غم را به خوی خویش

3

شد عمرها که برده ای از خویشتن مرا

بازآورم که سوختم از آرزوی خویش

4

خود را چنان ز هجر تو گم کرده ام که هست

مشکل تر از سراغ توام جست و جوی خویش

5

تا مست گفتگوی تو گشتم، ز همدمان

بیگانه وار می شنوم گفتگوی خویش

6

این جنس گریه، عرفی، ز اعجاز برترست

دریا گره نکرده کسی در گلوی خویش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…