Toggle stanza 1
از عشق تو در جگر ندارم آبی
1

از عشق تو در جگر ندارم آبی

چون بنشانم ز آتش دل تابی

2

از خواب غرور خویش یکبار آخر

بیدار شوم گرم ببینی خوابی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…