Toggle stanza 1
بر هر وجهی که بستهٔ اسبابی
1

بر هر وجهی که بستهٔ اسبابی

مرگت کند آگه که کنون در خوابی

2

دستت که ز پیوستن او بیخبری

تا از تو نبرند، خبر کی یابی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…