Toggle stanza 1
دوشش دیدم چو زلف خود در تابی
1

دوشش دیدم چو زلف خود در تابی

میشد چو مرا بدید در غرقابی

2

گفتا که برِ تو خواهم آمد فردا

گفتم:‌اگر امشبم ببینی خوابی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…