Toggle stanza 1
این شیوه مصیبت که مرا اکنون است
1

این شیوه مصیبت که مرا اکنون است

چون شرح توان داد که حالم چونست

2

هر اشک که ازدیدهٔ من میریزد

گر بشکافی هزار دریا خونست

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…