Toggle stanza 1
این سودایی که میدواند ما را
1

این سودایی که میدواند ما را

هرگز نتوان نشاند این سودا را

2

گویند که خویش را فرود آر آخر

دربند چگونه آورم دریا را

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…