شمارهٔ 1
Toggle stanza 1صد دریا نوش کرده اندر عجبیم
11
صد دریا نوش کرده اندر عجبیم
تا چون دریا از چه سبب خشک لبیم
22
از خشک لبی همیشه دریا طلبیم
ما دریاییم خشک لب زین سببیم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

