رباعی شمارهٔ 67

ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا

The Tulip of Sinai - 67

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اراست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 8

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
Toggle stanza 1
مرا روزی گل افسرده ئی گفت
1
مرا روزی گل افسرده ئی گفت
نمود ما چو پرواز شرار است

ایک دن مجھ سے ایک مرجھایا ہوا پھول بولا —

"ہماری ہستی تو بس چنگاری کی اڑان جیسی ہے" .

One day a withered rose thus spoke to me: ‘Our manifesting is a spark swift blown.’

2
دلم بر محنت نقش آفرین سوخت
که نقش کلک او ناپایدار است

میرا دل صورت گر (خالق) کی محنت پر جل گیا —

کہ اس کے قلم سے پیدا کردہ تصویر کتنی ناپائیدار ہے ۔

My heart is anguished for the Artist’s pain, the painting of His brush fadeth so soon!

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور