صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. شیخ محمود شبستری
  2. »سعادت نامه
  3. »باب دوم
  4. »فصل اول
  5. »بخش 4 - حکایت

بخش 4 - حکایت

شاعر: شیخ محمود شبستری

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

صنف: مثنوی

Toggle stanza 1
1

چون کسی کرد از این دو قوم سؤال

در جوابش چه گفت صاحب حال

2

فلسفی از خدای بتراشد

متکلم بر او همی پاشد

3

حق از این هر دو بر کران آمد

بحقیقت نه این نه آن آمد

4

ذات​ها را به ذات معرفت است

اختلافی که هست در صفت است

5

مذهب فرقه​های اهل ضلال

باز گویم کنون علی الاجمال

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خود جز او نیست عارف و معروف

اوست وصف، اوست واصف و موصوف

شیخ محمود شبستری»سعادت نامه»فصل اول»بخش 3 - حق الیقین

اگلی نظم

فلسفی کرد نفی جمله صفات

زان سبب شد معطل اندر ذات

شیخ محمود شبستری»سعادت نامه»فصل اول»بخش 5 - الفرقة الاولی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور