شاعر
شیخ محمود شبستری (1288ء تا 1320ء) فارسی زبان کے ممتاز عارف، صوفی اور شاعر تھے۔ آپ آذربائیجان کے قصبۂ شبستر میں پیدا ہوئے، جو تبریز کے قریب واقع ہے۔ اگرچہ آپ کی عمر نسبتاً مختصر رہی، لیکن آپ نے عرفانی ادب میں ایسا مقام حاصل کیا کہ ان کا شمار فارسی تصوف کی نمایاں ترین شخصیات میں ہونے لگا۔
شبستری نے اپنے عہد کے علمی و روحانی حلقوں میں شہرت حاصل کی اور تصوف، معرفت اور وحدتِ وجود کے مضامین کو نہایت لطیف اور عمیق انداز میں بیان کیا۔ ان کی شاعری میں عرفانی افکار، روحانی حقائق اور انسانی باطن کے اسرار نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کے آثار صوفیانہ ادب کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
ان کی سب سے مشہور تصنیف گلشنِ راز ہے، جو فارسی عرفانی ادب کے اہم ترین متون میں شمار ہوتی ہے اور صدیوں سے اہلِ تصوف و تحقیق کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اس کے علاوہ کنز الحقائق، سعادت نامہ، مرآت المحققین، مراتب العارفین اور حق الیقین بھی ان سے منسوب اہم تصانیف میں شامل ہیں۔
شیخ محمود شبستری نے 1320ء میں وفات پائی اور اپنے آبائی شہر شبستر میں مدفون ہوئے۔ اگرچہ ان کی زندگی مختصر تھی، لیکن ان کے افکار اور تصانیف نے فارسی تصوف اور عرفانی ادب پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔