صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. شیخ محمود شبستری
  2. »گلشن راز
  3. »بخش 38 - سوال از ماهیت نطق و بیان

بخش 38 - سوال از ماهیت نطق و بیان

شاعر: شیخ محمود شبستری

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: لامد

صنف: غزل/قصیده/قطعه

Toggle stanza 1
1

چه بحر است آنکه نطقش ساحل آمد

ز قعرِ او چه گوهر حاصل آمد؟

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ز من بشنو حدیث بی کم و بیش

ز نزدیکی تو دور افتادی از خویش

شیخ محمود شبستری»گلشن راز»بخش 37 - جواب

اگلی نظم

یکی دریاست هستی، نطق ساحل

صدف حرف و جواهر دانشِ دل

شیخ محمود شبستری»گلشن راز»بخش 39 - جواب

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور