صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 84

غزل شمارهٔ 84

شاعر: سنایی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: ایینیست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ساقیا می ده که جز می عشق را پدرام نیست

وین دلم را طاقت اندیشهٔ ایام نیست

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 83

اگلی نظم

دان و آگه باش اگر شرطی نباشد با منت

بامدادان پگه دست منست و دامنت

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 85

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

عشق جز بخشش خدایی نیست

این به سلطانی و گدایی نیست

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 120

جان من خیز و جام باده بیار

که مرا برگ پارسایی نیست

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 27

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00