صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 154

رباعی شمارهٔ 154

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: کایتکردند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

مرغان که خروش بی‌نهایت کردند

از فرقت گل همی شکایت کردند

2

چون کار فراقشان روایت کردند

با گل گله‌های خود حکایت کردند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نقاش که بر نقش تو پرگار افگند

فرمود که تا سجده برندت یک چند

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 153

اگلی نظم

ای گل نه به سیم اگر به جانت بخرند

چون بر تو شبی گذشت نامت نبرند

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 155

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور