صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 149

غزل شمارهٔ 149

شاعر: سنایی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: اشود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر که در بند خویشتن نبود

وثن خویش را شمن نبود

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 148

اگلی نظم

هر کو به خرابات مرا راه نماید

زنگ غم و تیمار ز جانم بزداید

سنایی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 150

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

طغیان نفس بیش به وقت غنا شود

مار ضعیف بر سر گنج اژدها شود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4255

در گلشنی که بند قبای تو وا شود

چندین هزار پیرهن گل قبا شود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4257

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00