صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 137

رباعی شمارهٔ 137

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: نگاورد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

آن بت که دل مرا فرا چنگ آورد

شد مست و سوی رفتن آهنگ آورد

2

گفتم: مستی، مرو، سر جنگ آورد

چون گل بدرید جامه و رنگ آورد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رو گرد سراپردهٔ اسرار مگرد

شوخی چکنی که نیستی مرد نبرد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 136

اگلی نظم

بس دل که غم سود و زیان تو خورد

بس شاه که یاد پاسبان تو خورد

سنایی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 138

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور