صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سنایی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قصاید و قطعات
  4. »شمارهٔ 42 - در رثای امیر معزی

شمارهٔ 42 - در رثای امیر معزی

شاعر: سنایی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: لکیداد

صنف: قصیده

Toggle stanza 1
1

تا چند معزای معزی که خدایش

زینجا به فلک برد و قبای ملکی داد

2

چون تیر فلک بود قرینش به رهاورد

پیکان ملک برد و به تیر فلکی داد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتی که بترسد ز همه خلق سنایی

پاسخ شنو ار چند نه‌ای در خور پاسخ

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 41

اگلی نظم

بی‌طمع باش اگر همی خواهی

تا نیفتی ز پایهٔ امجاد

سنایی»دیوان اشعار»قصاید و قطعات»شمارهٔ 43

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور