صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 763

غزل شمارهٔ 763

شاعر: صائب

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ودما

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
عالم ختن شد از قلم مشکسود ما
جای ترحم است به زخم حسود ما
22
برهان آدمیت ما، قدسیان بسند
گو شعله زاده ای ننماید سجود ما
33
خورشید از کدام افق سربرآورد؟
آفاق پر شده است ز گفت و شنود ما
44
خوردیم بس که سیلی اخوان روزگار
نیلی شد آب چاه ز روی کبود ما
55
صائب غنیمت است که در سنگلاخ دهر
خندید بخت سبز به روی کبود ما
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

داغ است لاله زار دل دردمند ما

خواند نوا به آتش سوزان سپند ما

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 762

اگلی نظم

دایم شکفته است دل داغدار ما

موقوف وقت نیست چو عنبر بهار ما

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 764

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00