صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 708

غزل شمارهٔ 708

شاعر: صائب

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: الخویشرا

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
کوتاه ساز رشته آمال خویش را
مپسند در شکنجه پر و بال خویش را
22
پرواز من به بال و پر توست، زینهار
مشکن مرا که می شکنی بال خویش را
33
دست دعا بود سپر ناوک قضا
در کار خیر صرف کن اقبال خویش را
44
دل واپسان به هیچ مقامی نمی رسند
بفرست پیشتر ز اجل مال خویش را
55
آن سنگدل که آینه ما به سنگ زد
می دید کاش صورت احوال خویش را
66
با دشمنان دوست نما در میان منه
صائب اگر ز اهل دلی، حال خویش را
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از کینه پاک کن دل افگار خویش را

صبح امید ساز شب تار خویش را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 707

اگلی نظم

پوشیده گر به زلف کنی روی خویش را

آخر چسان نهفته کنی بوی خویش را؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 709

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00