صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 709

غزل شمارهٔ 709

شاعر: صائب

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ویخویشرا

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
پوشیده گر به زلف کنی روی خویش را
آخر چسان نهفته کنی بوی خویش را؟
22
بی اختیار بوسه بر آیینه می زنی
گر بنگری به دیده من روی خویش را
33
ریزد ز عطسه مغز غزالان چین به خاک
گردآوری اگر نکنی بوی خویش را
44
شیرازه هزار دل پاره پاره است
از شانه تار و مار مکن موی خویش را
55
جوهر بس است سبزه شمشیر آبدار
زحمت مده به وسمه دو ابروی خویش را
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کوتاه ساز رشته آمال خویش را

مپسند در شکنجه پر و بال خویش را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 708

اگلی نظم

حاجت به خون گرم جگر نیست داغ را

روغن ز خود بود گهر شبچراغ را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 710

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00