صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 1915

غزل شمارهٔ 1915

شاعر: صائب

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ینهخماست

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

نقد نشاط در دل گنجینه خم است

این گنج در عمارت دیرینه خم است

2

جام جهان نما که در او راز می نمود

در زنگبار خجلت از آیینه خم است

3

مگذار شیخ را که به میخانه بگذرد

کان خودپرست دشمن دیرینه خم است

4

علمی که سرخ رویی یونانیان ازوست

چون نیک بنگری همه در سینه خم است

5

صائب خمار دست نمی دارد از سرم

چندان که خشت بر سر گنجینه خم است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کام از تو هر که یافت سلیمان عالم است

دستی که در میان تو شد حلقه خاتم است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1914

اگلی نظم

عرش بلند مرتبه بنیان آدم است

خورشید عقل، شمسه ایوان آدم است

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1916

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور