صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 545

غزل شمارهٔ 545

شاعر: صائب

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ونرا

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
11
شد ز زنجیر فزون شور جنون مجنون را
موج بال و پر رفتار شود جیحون را
22
گل ابری چه قدر آب ز دریا گیرد؟
نکند دیده سبکبار دل پر خون را
33
گوشه عافیتی صافدلان را کافی است
خم خالی است بس از میکده افلاطون را
44
سرو را باری اگر هست، همین بار دل است
برگ عیش از کف افسوس بود موزون را
55
تشنه را موج ز کوثر نکند رو گردان
عاشق از خط نکند ترک، لب میگون را
66
ناگواری ز بخیلان نبرد بیرون مرگ
تا قیامت نکند هضم، زمین قارون را
77
باده من بود از خون دل خود صائب
سنگ اطفال بود نقل، من مجنون را
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

میزبانی که ز جان سیر کند مهمان را

چه ضرورست که آراسته سازد خوان را؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 544

اگلی نظم

نیست آسودگی از سیر و سفر مجنون را

سنگ اطفال شود کوه و کمر مجنون را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 546

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00