صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 178

غزل شمارهٔ 178

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ینمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شیشه ای، می بود اگر چون شمع بر بالین مرا

از خمار می نمی شد دل سیه چندین مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 177

اگلی نظم

طاق کرد از هر دو عالم طاقِ آن ابرو مرا

ساخت وحشی از جهان آن نرگسِ جادو مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 179

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

نان به خون دل شد از تیغ زبان رنگین مرا

ترزبانی در گلو شد گریه خونین مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 175

خواب غفلت گر به این عنوان شود سنگین مرا

بالش پر می شود سنگی که شد بالین مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 176

شیشه ای، می بود اگر چون شمع بر بالین مرا

از خمار می نمی شد دل سیه چندین مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 177

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00