صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 621

غزل شمارهٔ 621

شاعر: صائب

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: یدمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ارگ چه سیل فنا برد هر چه بود مرا

ز بحر کرد کرم خلعت وجود مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 620

اگلی نظم

ز خود برآمده ام، با سفر چه کار مرا؟

بریده ام ز جهان، با ثمر چه کار مرا؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 622

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چه بخت بود که ناگه بر سر رسید مرا

که داد مژده وصل تو هر که دید مرا

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 54

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00