صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 1839

غزل شمارهٔ 1839

شاعر: صائب

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ازخواهیرفت

صنف: غزل

صداکار: عرفان حیدری خسرو
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

فغان که هستی من در ورق شماری رفت

حیات من چو قلم در سیاه کاری رفت

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1838

اگلی نظم

غبار خط تو از دل به هیچ باب نرفت

خط غبار به افشاندن از کتاب نرفت

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1840

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00