صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. صائب
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 624

غزل شمارهٔ 624

شاعر: صائب

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اغمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نمی توان ز سخن ساختن خموش مرا

که چون صدف ز دهان است رزق گوش مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 623

اگلی نظم

کجا به دام کشد سایه نهال مرا

شکوفه خنده شیرست از ملال مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 625

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

به‌تازگی نکشد عافیت دماغ مرا

مگر شکستن دل پرکند ایاغ مرا

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 119

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00