صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 617

غزل شمارهٔ 617

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ببیند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

صداکاران: فاطمه زندی، عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چونی و چه باشد چون تا قدر تو را داند

جز پادشه بی‌چون قدر تو کجا داند

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 616

اگلی نظم

چون جغد بود اصلش، کی صورتِ باز آید؟

چون سیر خورد مردم، کی بوی پیاز آید؟

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 618

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

نک ماه رجب آمد تا ماه عجب بیند

وز سوختگان ره گرمی و طلب بیند

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 634

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00