صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 844

غزل شمارهٔ 844

شاعر: رومی

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن (مضارع مثمن اخرب)

قافیہ: اچهباشد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

صداکاران: فاطمه زندی، عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در عشق زنده باید، کز مُرده هیچ ناید

دانی که کیست زنده؟ آن کو ز عشق زاید

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 843

اگلی نظم

مرغی که ناگهانی در دام ما درآمد

بشکست دام‌ها را بر لامکان برآمد

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 845

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

تن را اگر گذاری در عشق ما چه باشد

گراستخوان نگیری باز از هما چه باشد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4471

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00