صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1886

رباعی شمارهٔ 1886

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انبرخیزی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

رقص آن نبود که هر زمان برخیزی

بی‌درد چو گرد از میان برخیزی

2

رقص آن باشد کز دو جهان برخیزی

دل پاره کنی وز سر جان برخیزی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رفتم به طبیب گفتم ای بینائی

افتادهٔ عشق را چه می‌فرمایی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1885

اگلی نظم

رو ای غم و اندیشه خطا می‌گوئی

از کان وفا چرا جفا می‌گوئی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1887

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور