صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1887

رباعی شمارهٔ 1887

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: امیگویی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

رو ای غم و اندیشه خطا می‌گوئی

از کان وفا چرا جفا می‌گوئی

2

هر کودک را گر از جفا ترسانند

من پیر شدم در این مرا می‌گوئی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رقص آن نبود که هر زمان برخیزی

بی‌درد چو گرد از میان برخیزی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1886

اگلی نظم

روزی به خرابات گذر می‌کردی

کژ کژ به کرشمه‌ای نظر می‌کردی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1888

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور