صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1743

رباعی شمارهٔ 1743

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: امیرنجی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای شاخ گلی که از صبا می‌رنجی

ور زانکه گلی تو پس چرا می‌رنجی

2

آخر نه صبا مشاطهٔ گل باشد

این طرفه که از لطف خدا می‌رنجی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای سر سبب اندر سبب اندر سببی

وی تن عجب اندر عجب اندر عجبی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1742

اگلی نظم

ای شادی راز تو هزاران شادی

وز تو به خرابات هزار آبادی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1744

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور