صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 138

رباعی شمارهٔ 138

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ونگریخت

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
آن شه که ز چاکران بدخو نگریخت
وز بی‌ادبی و جرم صد تو نگریخت
22
او را تو نگوی لطف، دریا گویش
بگریخت ز ما دیو سیه او نگریخت
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن شب که ترا به خواب بینم پیداست

چون روز شود چو روز دل پرغوغاست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 137

اگلی نظم

آن عشق مجرد سوی صحرا می‌تاخت

دیدش دل من ز کر و فرش بشناخت

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 139

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00