صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1877

رباعی شمارهٔ 1877

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ساقی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دوش از سر عاشقی و از مشتاقی

می‌کردم التماس می از ساقی

2

چون جاه و جمال خویش بنمود به من

من نیست شدم بماند ساقی ساقی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش آمد آن خیال تو رهگذری

گفتم بر ما باش ز صاحب نظری

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1876

اگلی نظم

دوشینه مرا گذاشتی خوش خفتی

امشب به دغل به هر سویی می‌افتی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1878

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور