صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 670

رباعی شمارهٔ 670

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ینمیباید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
در عشق توام وفا قرین میباید
وصل تو گمانست و یقین میباید
22
کار من و دل خاصه در حضرت تو
بد نیست و لیکن به از این میباید
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در عشق توام نصیحت و پند چه سود

زهراب چشیده‌ام مرا قند چه سود

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 669

اگلی نظم

در عشق تو عقل ذوفنون میخسبد

مشتاق در آتش درون میخسبد

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 671

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

در عشق توم وفا قرین می‌باید

وصل تو گمانست، یقین می‌باید

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 686

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00