صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1807

رباعی شمارهٔ 1807

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: تبینی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

بیخود باشی هزار رحمت بینی

با خود باشی هزار زحمت بینی

2

همچون فرعون ریش را شانه مکن

گر شانه کنی سزای سبلت بینی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بی‌جهد به عالم معانی نرسی

زنده به حیات جاودانی نرسی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1806

اگلی نظم

بیرون نگری صورت انسان بینی

خلقی عجب از روم و خراسان بینی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1808

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور