صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 1808

رباعی شمارهٔ 1808

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: سانبینی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

بیرون نگری صورت انسان بینی

خلقی عجب از روم و خراسان بینی

2

فرمود که ارجعی رجوع آن باشد

بنگر به درون که بحر انسان بینی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بیخود باشی هزار رحمت بینی

با خود باشی هزار زحمت بینی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1807

اگلی نظم

پیش آی خیال او که شوری داری

بر دیدهٔ من نشین که نوری داری

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1809

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور