صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 108

رباعی شمارهٔ 108

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انکردند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا رنگ من از شراب رهبان کردند

بی رنگی ام آبروی ایمان کردند

2

صوفی بت هستیم به صد پاره شکست

دردا که تعلقم پریشان کردند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر سنگ ملامت به دلم نستیزد

از هر سر مو چشمهٔ آز انگیزد

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 107

اگلی نظم

رخسار تو باغ را سراسیمه کند

بوی تو دماغ را سراسیمه کند

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 109

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور