صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 85

رباعی شمارهٔ 85

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: نمیسوزد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

از خامشی ام جان به سخن می سوزد

وز بی خودیم نقش وطن می سوزد

2

حیرت ز هم آغوشی من می نالد

اندیشه ز آرزوی من می سوزد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در باغ دلم که روضه نعتش گوید

آب طلبت روی چمن می شوید

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 84

اگلی نظم

عشق تو خرابات نشین می باشد

کوی تو بهشت عقل و دین می باشد

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 86

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور