صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »قطعات
  3. »شمارهٔ 19 - بخل بی نهایت

شمارهٔ 19 - بخل بی نهایت

شاعر: عرفی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ردنخورد

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

همدمی دارم بسی خوش صحبت اما گرسنه

آنچنان کز بهر سیری زخم تامردن خورد

2

با جوال زرمدامش غم بود قوت و هنوز

بسکه باخود بخل ورزد غم زغم خوردن خورد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای بلهوس که آمده میهمان وعظ

وقتی بیا که زهر بکامت شکر بود

عرفی»قطعات»شمارهٔ 18 - مهمان وعظ

اگلی نظم

فسانه ای بشنو عرفی از من بیمار

که باشدت بنفاق معاشران رهبر

عرفی»قطعات»شمارهٔ 20 - آخرین سخن

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور