صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 150

غزل شمارهٔ 150

شاعر: عرفی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

قافیہ: نگداشت

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

دوش بختم دامنی در چنگ داشت

در گل روی نگاهم رنگ داشت

2

بس که می شد التماس دل قبول

از تمنای شهادت ننگ داشت

3

در خیالم شکر بود و شکوه بود

نغمه ام یارب کدام آهنگ داشت

4

عشق کی با جان من دشمن نبود

شعله با خاشاک دایم جنگ داشت

5

نقشبند حسن عرفی ناز بود

کز دل فرهاد نقش سنگ داشت

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر به دیرم طلبد مغبچه ی حور سرشت

بیم دوزخ برم از یاد جو امید بهشت

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 149

اگلی نظم

کوی عشق است این که مرغ سدره، این جا، پر گذاشت

خوشدلی آمد که تاج غم ربا بر سر گذاشت

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 151

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور