صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 49

غزل شمارهٔ 49

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: یدبلنداست

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

تا کوکبه ی رحمت جاوید بلند است

بخت طلب و طالع امید بلند است

2

آوازه ی رندی به جهان پست نگردد

تا زمزمه ی جام ز جمشید بلند است

3

ما گلخنی یان بس که ز بد نامی راحت

از سایه نشینان گل بید بلند است

4

چون شیونی یان همدمی ما نگرفتند

از محفل ما نغمه ی ناهید بلند است

5

عرفی خبر از جلوه ی معشوق ندارد

با ذره بگویند که خورشید بلند است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

لب فروبستن ناصح گرهی بر باد است

صد ره این بست و گشادم بر یاد است

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 48

اگلی نظم

ناله ام پرورش آموز نهال اثر است

ور به دارت بنمایم که سراپا ثمر است

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 50

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور