صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. نظیری نیشابوری
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »شمارهٔ 111

شمارهٔ 111

شاعر: نظیری نیشابوری

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: امیایم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

پر می بینم که بینوا می آیم

بیگانه ز خویش و آشنا می آیم

2

ای کاش چو رفتنم ندانم به کجاست

می دانستم که از کجا می آیم؟

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ترک همه کس ز بی تمیزی کردیم

با خویش نشسته عطربیزی کردیم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 110

اگلی نظم

گر از مشهد اگر ز بلخ آمده‌ایم

از غره جاهلی به سلخ آمده‌ایم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 112

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور