شاعر
محمد حسین نظیری نیشاپوری (1552ء تا 1612ء) فارسی زبان کے ممتاز شاعر اور سبکِ ہندی کے ابتدائی معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نیشاپور میں پیدا ہوئے اور اپنی غیر معمولی شاعرانہ صلاحیتوں، جدتِ فکر اور منفرد اسلوب کے باعث فارسی شاعری کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام نہ صرف اپنے عہد میں مقبول ہوا بلکہ بعد کی شعری روایتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا رہا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد نظیری نے شاعری کو اپنا میدان بنایا اور اپنی فنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کاشان کا رخ کیا، جو اس زمانے میں فارسی شاعری اور سبکِ وقوع کے شعرا کا ایک اہم مرکز تھا۔ وہاں انہوں نے متعدد ادبی محفلوں میں شرکت کی اور اپنے معاصر شاعروں کے درمیان ممتاز مقام حاصل کیا۔
بعد ازاں نظیری ہندوستان روانہ ہوئے، جہاں انہیں مغل دربار میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ وہ پہلے شہنشاہ جہانگیر کے دربار سے وابستہ ہوئے اور پھر نامور سپہ سالار اور ادیب عبد الرحیم خانِ خاناں کی سرپرستی حاصل کی۔ ہندوستان میں قیام کے دوران انہیں شہرت، عزت اور مالی آسودگی حاصل ہوئی، اور اسی دور میں ان کی شاعری اپنے عروج پر پہنچی۔
نظیری نیشاپوری کے کلام میں خیال آفرینی، نازک مضمون بندی اور لطیف تشبیہات نمایاں ہیں، جنہوں نے بعد کے فارسی اور اردو شعرا کو بھی متاثر کیا۔ ان کا شمار ان شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فارسی شاعری کو نئے فکری اور فنی امکانات سے آشنا کیا۔
نظیری نیشاپوری نے 1612ء میں آگرہ میں وفات پائی۔ ان کا نام فارسی شاعری کی تاریخ میں ایک صاحبِ اسلوب شاعر کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے، اور ان کا کلام آج بھی اہلِ ادب کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔