صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. نظیری نیشابوری
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »شمارهٔ 110

شمارهٔ 110

شاعر: نظیری نیشابوری

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یزیکردیم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11

ترک همه کس ز بی تمیزی کردیم

با خویش نشسته عطربیزی کردیم

22

شکر ارچه به خواری از نظر افتادیم

جا در دل اخوان به عزیزی کردیم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

روزی که گرفت کاتب صنع قلم

مشکل دهنش به هیچ گردید رقم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 109

اگلی نظم

پر می بینم که بینوا می آیم

بیگانه ز خویش و آشنا می آیم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 111

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور