صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »ترانه‌های خیام (صادق هدایت)
  3. »گردش دوران [56-35]
  4. »رباعی 35

رباعی 35

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یشد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

افسوس که نامهٔ جوانی طی شد،

وان تازه‌بهار زندگانی دی شد

2

حالی که ورا نام جوانی گفتند،

معلوم نشد که او کیْ آمد، کیْ شد!

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

افسوس که سرمایه ز کَف بیرون شد

در پایِ اَجَل بسی جگرها خون شد!

خیام»ترانه‌های خیام (صادق هدایت)»گردش دوران [56-35]»رباعی 36

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

افسوس که نامهٔ جوانی طی شد

وآن تازه‌بهارِ زندگانی دی شد

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 63

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور