صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 47

رباعی شمارهٔ 47

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انیایناست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
می نوش که عمر جاودانی این است
خود حاصلت از دور جوانی این است
22
هنگام گل و باده و یاران سرمست
خوش باش دمی که زندگانی این است
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

می لعل مذاب است و صراحی کان است

جسم است پیاله و شرابش جان است

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 46

اگلی نظم

نیکی و بدی که در نهاد بشر است

شادی و غمی که در قضا و قدر است

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 48

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

می نوش که عمرِ جاودانی این است

خود حاصِلَت از دوْرِ جوانی این است

خیام»ترانه‌های خیام (صادق هدایت)»دم را دریابیم [143-108]»رباعی 133

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00