صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات خیام به پژوهش سیدعلی میرافضلی
  3. »رباعیات محتمل
  4. »شمارهٔ 21

شمارهٔ 21

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ادستند

صنف: رباعی

صداکار: حامد بوطیقا
Toggle stanza 1
11
ز آن گه که نهادِ خلق بنهادستند
بر هرچه قرار داده شد، شادستند
22
بیشی طلبان، به‌هم در افتادستند
بیشی مطلب که دادنی دادستند
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هم دانۀ اومید به خرمن مانَد

هم باغ و سرایْ بی تو و من مانَد

خیام»رباعیات خیام به پژوهش سیدعلی میرافضلی»رباعیات محتمل»شمارهٔ 20

اگلی نظم

چون قاعدۀ وجودِ ما بنهادند

در مشورتم پیام نفرستادند

خیام»رباعیات خیام به پژوهش سیدعلی میرافضلی»رباعیات محتمل»شمارهٔ 22

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00