صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. جامی
  2. »دیوان اشعار
  3. »خاتمة الحیات
  4. »رباعیات
  5. »شمارهٔ 13

شمارهٔ 13

شاعر: جامی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انشرا

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

خواجه که ندیده چشم کس خوانش را

نشکسته به دندان طمع نانش را

2

دریوزه گری خواست ز وی مشتی آرد

کرد آرد به زخم مشت دندانش را

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بی سود یقین دم زیانی می زن

بر گرد یقین تار گمانی می تن

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 12

اگلی نظم

ای خاک رهت سرمه روشن بصران

سوی تو روان به دیده صاحبنظران

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 14

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور